وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت پٹرولیم سیکٹر سے متعلقہ ایشوز پر اہم اجلاس

March 11, 2019


اسلام آباد، 11مارچ 2019أ* 

وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت پٹرولیم سیکٹر سے متعلقہ ایشوز پر اہم اجلاس

* اجلاس میں وزیرِ خزانہ اسد عمر، وزیرِ پٹرولیم غلام سرور خان، معاون خصوصی افتخار درانی، سیکرٹری پٹرولیم اور پٹرولیم ڈویژن کے اعلیٰ افسران کی شرکت
* اجلاس میں ملک میں تیل اور گیس کے ذخائر کی دریافت کے لئے موجودہ قوانین اور انتظامی اصلاحات پر غور
*وزیرِ اعظم کی تیل و گیس دریافت سے وابستہ لوکل کمپنیوں کوایکسپلوریشن کے سلسلے میں کوششیں تیز کرنے کی ہدایت
* وزیرِ اعظم کی پٹرولیم ڈویژن کو تیل و گیس کے ذخائر دریافت کرنیوالی غیر ملکی کمپنیوں کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کرنے کی ہدایت
* وزارت سے منظوریوں کے عمل کو کم سے کم جبکہ غیر ضروری طوالت اور سرخ فیتے کے خاتمے کے لئے تمام عمل کو ڈیجیٹل کرنے کے ساتھ ساتھ ہر ضروری منظوری کے لئے ایک مخصوص معیاد میں تکمیل کو یقینی بنایا جائے: وزیرِ اعظم کی ہدایت 
* تیل و گیس کے کنوؤں کی ڈویلپمنٹ کے عمل میں کمپنیوں کو منظوریوں کے عمل کی غیر ضروری بندشوں سے آزاد کرکے وزارت کے کردار کو مانیٹرنگ تک محدود کیا جا رہا ہے: وزیرِ اعظم کو بریفنگ
* پاکستان میں کام کرنے والی تیل و گیس کے شعبے سے وابستہ غیر ملکی کمپنیوں کو مکمل سیکورٹی مہیا کی جائے گی
* ملک میں سیکورٹی کی موجودہ بہتر صورتحال کے ساتھ ساتھ تیل و گیس کمپنیوں کو مزیدسیکورٹی فراہم کرنے کے لئے خصوصی فورس تشکیل دینے کا فیصلہ 
* پاکستان میں موجود تیل اور گیس کے ذخائر کی دریافت کے لئے معروف غیر ملکی کمپنیوں کو ترغیب دینے کے لئے بیرون ممالک روڈ شوز کرانے کا فیصلہ
* تیل و گیس کی دریافت کے لئے فرنٹیئر زون کے قیام اور کمپنیوں کو گیس کی پرکشش قیمت دینے کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو 
* تیل و گیس کی دریافت کے لئے نئے قوانین جلد از جلد مشترکہ مفادات کی کونسل کے سامنے پیش کیے جائیں تاکہ ان کو حتمی شکل دی جا سکے: وزیرِ اعظم کی ہدایت
* اجلاس میں گیس کی چوری اورضیاع کی روک تھام کے لئے سوئی ناردرن اور سوئی سدرن کی جانب سے لائحہ عمل کا جائزہ
* قدرت نے پاکستان کو دیگر ذخائر کے ساتھ ساتھ تیل و گیس کے بھی مناسب ذخائر سے نوازہ ہے جس کی دریافت اور انہیں برؤے کار لانے سے ملکی ضروریات بڑی حدتک پوری کی جا سکتی ہیں۔ بدقسمتی سے ماضی میں ملک میں موجود تیل و گیس کی ذخائر کی دریافت پر توجہ دینے کی بجائے مہنگی امپورٹ کو ترجیح دی گئی جس سے نہ صرف صنعتی صارفین متاثر ہوئے بلکہ عام عوام پر مہنگائی کے بوجھ میں اضافہ ہوا : وزیرِ اعظم