وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بیرون ملک بسنے والے پاکستانی (اوورسیزپاکستانیز) ملک کا سرمایہ ہیں اور حکومت کی ہر ممکنہ کوشش ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو آسانیاں مہیا کی جائیں۔

February 26, 2019

اسلام آباد،26فروری2019:

* وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بیرون ملک بسنے والے پاکستانی (اوورسیزپاکستانیز) ملک کا سرمایہ ہیں اور حکومت کی ہر ممکنہ کوشش ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو آسانیاں مہیا کی جائیں۔ انہوں نے معاون خصوصی سید ذوالفقار عباس بخاری کو ہدایت کی کہ ایسی پالیسیاں اختیار کی جائے جس سے نہ صرف بیرون ملک پاکستانیوں کو آسانیاں میسر آئیں بلکہ ان کے خاندانوں کو بھی صحت، تعلیم اور دیگر سہولیات فراہم ہوں۔ یہ بات وزیرِ اعظم نے آج وزیرِ اعظم آفس میں ترسیلات زر کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ 

* اجلاس میں پہلے نیشنل چیلینجر بنک کے قیام کی بھی اصولی منظوری دی گئی۔ 

* گورنر سٹیٹ بنک نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زرکی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں ترسیلات زر میں 12.5%فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔ توقع ہے کہ مالی سال کے لئے 22ارب کا مقرر شدہ سالانہ ٹارگٹ با آسانی پورا کیا جا سکے گا۔ 

* ترسیلات زر کے فروغ کے حوالے سے حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے مختلف اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے گورنر سٹیٹ بنک نے کہا ترسیلات زر کے حوالے سے بنکوں کو دیے جانے والی مراعات، ایم والٹ سکیم کے فروغ اور ریمٹنس پر ودہولڈنگ ٹیکس کی چھوٹ جیسی مراعات سے ترسیلات زر کی مد میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے۔ 

* ایم والٹ کی پرفارمنس کے حوالے سے بریف کرتے ہوئے گورنر سٹیٹ بنک نے بتایا کہ ایم والٹ کے تحت دسمبر میں 25ملین روپے جبکہ جنوری میں 30.5ملین روپے وصول ہوئے جبکہ اس سے قبل گیارہ ماہ میں (جنوری سے نومبر 2018)تک ایم والٹ کی مد میں وصول ہونے والی ترسیلات محض 54.7ملین روپے تھے۔ 

* گورنر سٹیٹ بنک نے بتایا کہ حوالہ ہنڈی کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے بلاک چین ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ 

*قانونی طریقوں سے ترسیلات زر کو فروغ دینے کے لئے رواں سال متحدہ عرب امارات میں اپریل میں سیکنڈ پاکستان ریمٹنس سمٹ کا انعقاد کیا جائے گا ۔ 

* ترسیلات زر کے حوالے سے نیشنل بنک آف پاکستان کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر بھی تفصیلی بریفنگ

* اجلاس میں بتایا گیا کہ ترسیلات زر کے حوالے سے نیشنل بنک اور پاکستان پوسٹ مل کرکام کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے پہلے مرحلے میں 237ڈاکخانوں سے ترسیلات زر کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ دوسرے مرحلے میں تیرہ ہززر ڈاکیوں کی مدد سے عوام کو انکے گھروں کی دہلیز پر بیرون ملک سے بھیجے جانے والی رقوم کی ترسیلات ممکن بنائی جا ئیں گی۔ 

* نیشنل بنک کی جانب سے وزیرِ اعظم کو بتایا گی کہ نیشنل بنک پروٹیکٹوریٹ دفاتر میں اپنی برانچیں قائم کر رہا ہے تاکہ بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کو بنکنگ کی تمام سہولیات ایک ہی چھت تلے مہیا کی جا سکیں۔ 

* بیرون ملک پاکستانیوں کے سہولت کے لئے پہلے نیشنل چیلنجر بنک کے قیام اور اس ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی بدولت بیرون ملک پاکستانیوں کو میسر آنے والی سہولیات پر بھی تفصیلی بریفنگ