وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت تصوف اور اسلام کی ترویج کے سلسلے میں صوفیاء کرام کی خدمات کو اجاگر کرنے اوران کی شخصیات پر تحقیق کے فروغ کے سلسلے میں تعلیمی و تحقیقی ادارے کے قیام کے سلسلے میں اعلیٰ سطحی اجلاس

February 25, 2019

اسلام آباد،25فروری2019:

* وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت تصوف اور اسلام کی ترویج کے سلسلے میں صوفیاء کرام کی خدمات کو اجاگر کرنے اوران کی شخصیات پر تحقیق کے فروغ کے سلسلے میں تعلیمی و تحقیقی ادارے کے قیام کے سلسلے میں اعلیٰ سطحی اجلاس

* اجلاس میں وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری، وزیر برائے نیشنل فوڈ اینڈ سیکیورٹی صاحبزادہ محبوب سلطان، وزیر اوقاف پنجاب پیر سید سعید الحسن، وزیر برائے ہائر ایجوکیشن پنجاب یاسر ہمایوں سرفراز، ایم این اے خواجہ شیراز محمود، چئیرمین ہائر ایجوکیشن طارق بنوری، چئیرمین مدینہ فاؤنڈیشن میاں محمد حنیف، پروفیسر ڈاکٹر نور احمد شاہ تاج، خواجہ قاسم سیالوی و متعلقہ محکموں کے سینئر افسران شریک

* اجلاس میں شرکاء سے بات چیت کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ اسلام کی ترویج میں صوفیا کرام کے کردار اور تصوف کے بارے میں نوجوان نسل کو روشناس کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لئے ایسے ادارے کا قیام کہ جہاں خاص طور پر تصوف اور صوفیا کرام کی شخصیات اور انکی خدمات کے بارے میں سیر حاصل اور جینوئن تحقیق ہو بہت اہمیت کی حامل ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ایسے ادارے کے قیام اور اس میں ہونے والی تحقیق سے نہ صرف نئی نسل اسلام کی اصل تعلیمات سے آگاہ ہوں گی بلکہ مذہب کے نام پر کیے جانے والے استحصال سے بھی معاشرے کو بچایا جا سکتا ہے۔ 

اس ضمن میں وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری، چئیرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن، خواجہ شیراز محمود اور میاں محمد حنیف پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو تصوف اور سیرت سٹڈیز کے قیام کے حوالے سے عملی خاکہ (کانسیپٹ پیپر) مرتب کرکے وزیرِ اعظم کو پیش کرے گی۔

* اجلاس میں درگاہوں اور مزارات پر زائرین کو مناسب سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

* وزیرِ اعظم نے ہدایت کی اوقاف کی غیر استعمال شدہ زمینوں کو برؤے کار لانے اور انکے مصرف کے لئے لائحہ عمل تشکیل دیا جائے تاکہ نہ صرف ان اراضیوں پر بعض مقامات پر ہونے والے ناجائز قبضوں کوواگزار کرایا جا سکے بلکہ انکا مناسب استعمال بھی یقینی بنایا جا سکے تاکہ ان سے ہونے والی آمدنی کو درگاہوں اور زائرین کو سہولیات کی فراہمی پر خرچ کیا جا سکے۔