وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت فاٹا انضمام کے بعد انتظامی و دیگر معاملات پراب تک ہونے والی پیش رفت پر وزیرِ اعظم آفس میں اعلیٰ سطحی اجلاس

November 09, 2018


اسلام آباد، 09نومبر2018:


 وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت فاٹا انضمام کے بعد انتظامی و دیگر معاملات پراب تک ہونے والی پیش رفت پر وزیرِ اعظم آفس میں اعلیٰ سطحی اجلاس


 اجلاس میں وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری، گورنر خیبر پختونخواہ شاہ فرمان ، وزیرِ اعلیٰ محمود خان، وزیرِ اعظم کے مشیر شہزاد ارباب، فاٹا سے تعلق رکھنے والے سینٹرز اور پارلیمنٹیرینز اور دیگر افسران شریک
 وزیرِ اعظم کو فاٹا انضمام کے بعد انتظامی و دیگر معاملات پر اب تک ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ
 اجلاس میں بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کی ہدایات کی روشنی میں اب تک فاٹا سیکریٹریٹ کے کئی محکمے صوبہ خیبر پختونخواہ کو منتقل کیے جا چکے ہیں ان محکموں میں تعلیم، زکوۃ، عشر، سوشل ویلفیئر اور پاپولیشن ویلفیئر شامل ہیں۔ دیگر محکموں کی منتقلی پر بھی کام جاری ہے، انضمام شدہ علاقوں کی تعمیر و ترقی کے لئے دس سالہ منصوبہ بندی کے لئے خصوصی کمیٹی وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخواہ کی سربراہی میں تشکیل دی جا چکی ہے۔ انضمام شدہ علاقوں کی تعمیر و ترقی کے لئے این ایف سی کا تین فیصد مختص کرنے کے لئے وفاق سے مشاورت جاری ہے۔ وزیرِ اعظم نیشنل ہیلتھ پروگرام کے تحت فاٹا کے غریب عوام کو صحت سہولت کارڈکی فراہمی کے لئے فاقی حکومت کی جانب سے بجٹ میں 1.1ارب روپیہ منظور کیا گیا ہے۔ فاٹا کے علاقوں میں ٹیکس کے حوالے سے پانچ سالہ چھوٹ دینے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جا چکا ہے۔ فاٹاکا سالانہ ترقیاتی پروگرام (2018-19) منظور کیا جا چکا ہے۔ انضمام شدہ علاقوں میں حلقہ بندیوں کا کام جاری ہے جسے دسمبر 2018تک مکمل کر لیا جائے گا


 عدالتی و ویگر معاملات پر پیش رفت پر بھی وزیرِ اعظم کو تفصیلی بریفنگ
 اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ فاٹا انضمام قبائلی علاقوں کے لوگوں کی زندگیوں کو بدلنے اور ان میں واضح بہتری لانے کے مقصد کے پیش نظر کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ بعض قوتیں فاٹا انضمام کے خلاف کام کر رہی ہیں اوراپنے مذموم مقاصد کی خاطر لوگوں کو گمراہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ملکر ان قوتوں کے ارادوں کو ناکام بنانا ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ انتظامی و دیگر اصلاحات کے عمل میں فاٹا کے لوگوں کو پتہ چلنا چاہیے کہ انضمام انہی کی بہتری اور بھلائی کے لئے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انضمام کے بعد انتظامی و دیگر اصلاحات کے عمل کو اس انداز میں سر انجام دیا جائے کہ وہ لوگوں کے لئے دشواری کا باعث نہ بنے۔ وزیرِ اعظم نے مشرقی اور مغربی جرمنی کے انضمام کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقے تعمیر و ترقی کے حوالے سے ملک کے دیگر حصوں سے کافی پیچھے ہیں ۔ ان علاقوں کو ملک کے دیگر حصوں کے برابر لانے کے لئے سب کو مل جل کر کوشش کرنا ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت این ایف سی ایوارڈ میں فاٹا کو حصہ دلانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے گی۔ انضمام شدہ علاقوں میں افسران کی تعیناتی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ان علاقوں میں صرف انہی افسران کو تعینات کیا جائے جن کی شہرت نیک ہو اور جن میں عوام کی خدمت کا جذبہ ہو۔