وزیرِ اعظم عمران خان کی زیرِ صدارت تاریخی اور سرکاری عمارتوں کے مثبت استعمال کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس

October 24, 2018


اسلام آباد، 24اکتوبر2018:
وزیرِ اعظم عمران خان کی زیرِ صدارت تاریخی اور سرکاری عمارتوں کے مثبت استعمال کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس 
  ٭ اجلاس میں وزیر برائے وفاقی تعلیم و قومی ورثہ شفقت محمود، چئیرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر طارق بنوری، سیکرٹری خارجہ، سیکرٹری ہاوسنگ، سیکرٹری تعلیم، سیکرٹری قومی ورثہ، چیف سیکرٹری پنجاب، چیف سیکرٹری خیبر پختونخواہ، چیف سیکرٹری بلوچستان اور دیگر افسران کی شرکت
٭ گورنر ہاؤسز سمیت ملک بھر میں پھیلی حکومتی ملکیت کی تاریخی اور دیگر سرکاری عمارتوں کو برؤے کار لانے اور انکو مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت کا جائزہ
٭ وزیرِ اعظم کو مختلف سرکاری عمارتوں کی دیکھ بھال اور مرمت پر سرکاری خزانے سے اٹھنے والے اخراجات کی تفصیل پیش
٭ چنبہ ہاؤس لاہور پر سالانہ ایک کروڑ کا خسارہ ہے: وزیرِ اعظم کو بریفننگ
٭ قصرِ ناز کراچی سالانہ دو کروڑ کا نقصان میں ہے۔ 
٭  گورنمنٹ ہاؤس مری کی تزئین و آرائش کے لئے سابقہ حکومت کی جانب سے 60کروڑ خرچ کیے گئے۔
٭ اجلاس میں مختلف عمارتوں کو برؤے کار لانے کے حوالے سے پلان پر تفصیلی گفتگو
٭ گورنمنٹ ہاؤس کشمیر پوائنٹ مری کو جدید سہولتوں سے آراستہ ہوٹل بنایا جائے گا۔وزیرِ اعظم کی چیف سیکرٹری پنجاب کو اس عمل کو جلد از جلد مکمل  کرنے کی ہدایت
٭ پنجاب ہاؤس پنڈی پوائنٹ مری کو یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کی تجویز پر غور کیا گیا
٭ پنجاب ہاؤس اور گورنر ہاؤس انیکسی راولپنڈی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی پارک اور انکیوبیشن سنٹر بنانے کی تجویر
٭ گورنر ہاؤس لاہور کے استعمال کے لئے مختلف تجاویز زیرِ غور، گورنر ہاؤس کے  باغات اورگراؤنڈز کو پبلک کے لیے کھولنے کا فیصلہ، گورنر ہاؤس کی بیرونی دیوار کو مسمار کرنے کی ہدایت، اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ عمارت سے منسلک گرین ایریاز متاثر نہ ہو: وزیرِ اعظم کی ہدایت
٭ نوے شاہراہ قائداعظم کی عمارت کو کرافٹس میوزئم اور کانفرنس ہال میں تبدیل کرنے کی تجویز
٭ چنبہ ہاؤس لاہورجیسی مرکزی جگہ کواس انداز میں برؤے کار لایا جائے کہ جس سے آمدنی میسر آئے: وزیرِ اعظم کی ہدایت
٭ اسٹیٹ گیسٹ ہاؤسز لاہور اور کراچی میں فائیو سٹار ہوٹل بنانے کی تجویز 
٭ گورنر ہاوس پشاورکو خواتین کے مختص پارک اور میوزیم بنانے کی منظوری
٭  گورنر ہاؤس نتھیا گلی کو بوتیک ہوٹل بنانے کے لئے استعمال میں لانے کا فیصلہ
٭ 25ایکٹر پر محیط گورنر ہاؤس کوئٹہ میں بھی خواتین کے مختص پارک بنانے کا فیصلے،  گورنر ہاؤس کی تاریخی عمارت کو برؤے کار لانے کے لئے ماہرین سے تجاویز طلب کی جائیں گی۔
اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم عمران خان کے ریمارکس:
٭آپ جانتے ہیں کہ اس وقت ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کے لئے چھ ارب روپیہ یومیہ ادا کرنا پڑ رہا ہے۔قرضوں کی قسطوں کی ادائیگیوں کے لئے بھی قرضہ لینا پڑ رہا ہے۔ایک طرف یہ صورتحال ہے اور دوسری طرف حکومت کے پاس ایسے اثاثے ہیں جن کی دیکھ بھال کے لئے کروڑوں روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ یہ انگریز حکومت کا مائنڈ سیٹ تھا کہ وہ محکوم عوام کے وسائل سے عالی شان عمارتیں بناتی تھی اور عوام کو ان سے دور رکھا جاتا تھا۔ ہمیں اس مائنڈ سیٹ کو تبدیل کر نا ہے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے اور وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم اپنی ذمہ داری سمجھیں۔ عالی شان گورنر ہاؤسز اور بڑی بڑی عمارتیں انگریز سامراج کا سمبل ہے اس سے بھی زیادہ یہ بے حسی کا سمبل ہے۔ ان عمارتوں اور ان میں شاہانہ انداز کو دیکھ کر عوام جہاں اپنی حکومتوں سے بدظن ہو جاتے ہیں وہاں ٹیکس کلچر فروغ نہیں پا سکتا۔ گورنر ہاؤسز سمیت تاریخی اور سرکاری عمارتوں کا مثبت استعمال یقینی بنانا تحریک انصاف کے منشور کا اہم جزو ہے اور حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عمل جلد از جلد مکمل ہو سکے۔ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ان عمارتوں کو عوام کے لئے کھولا جائے اور یہ عوام کی پہنچ میں ہوں۔