وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدرات مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس، اجلاس میں چاروں صوبائی وزارئے اعلیٰ شریک

September 24, 2018

اسلام آباد، 24ستمبر2018

٭ وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدرات مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس، اجلاس میں چاروں صوبائی وزارئے اعلیٰ شریک
٭ ملک میں تعلیمی اداروں کے معیاراوراعلیٰ تعلیم میں یکسانیت کے فروغ کے سلسلے میں وفاق اور صوبوں کے درمیان کوارڈینیشن کی بہتری کے لئے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو صوبوں سے ملکر لائحہ عمل وضع کرنے کی ہدایت۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کوآئندہ ایک ماہ میں تمام ضروری مشاورت مکمل کرنے اور سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت
٭ بلوچستان میں تعلیمی معیار کی بہتری پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، ہائر ایجوکیشن صوبائی حکومت سے ملکر اس سلسلے میں ممکنہ اقدامات کا جائزہ لے: وزیرِ اعظم
٭ بلوچستان میں صحت کی سہولتوں اور خصوصاً کینسر کے مرض کی بروقت تشخیص و علاج کے سلسلے میں شوکت خانم ہسپتال کی سروسز بلوچستان تک پھیلائی جائیں گی: وزیرِ اعظم 
٭ کراچی کے لئے اضافی پانی کی فراہمی کی صوبہ سندھ کی درخواست نیشنل واٹر کونسل کے سپرد۔ کونسل ملک میں موجودہ پانی کی فراہمی، صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے فارمولے اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے مشترکہ مفادات کونسل کو اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ پانی کے ضیاع کو روکنے اور اس کے بہتر استعمال کے سلسلے میں بھی اقدامات تجویز کیے جائیں گے۔  
٭ مشترکہ مفادات کونسل کا پلاننگ کمیشن کو بلوچستان میں بجلی کی ترسیل و تقسیم کے نظام سے متعلق منصوبوں کا جائزہ لینے کی ہدایت۔ پلاننگ کمیشن کے جائزے کی روشنی میں فوری اہمیت کے منصوبوں پر جلد کام شروع کرنے کی ہدایت
٭ پٹ فیڈر اور کیرتھر کینال میں پانی کی کم دستیابی کے معاملے پر غور،  سندھ اور بلوچستان کے وزراء اعلیٰ باہمی طور پر معاملے کو حل کریں۔  
٭ صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کی مانیٹرنگ کا ایک ایسا جامع اور شفاف نظام مرتب کیا جائے جس سے تمام صوبوں کو بروقت اور صحیح معلومات کی فراہمی میسر آسکے، صحیح معلومات کی فراہمی کا فقدان غلط فہمیوں کا باعث بنتا ہے لہذا اس سلسلے میں فوری اقدامات کیے جائیں:  وزیرِ اعظم کی ہدایت
٭ نیٹ ہائیڈل پرافٹس کے سلسلے میں اے جی این قاضی فارمولے پر من و عن عمل درآمد پر وفاق اور صوبوں میں اتفاق
٭ ای او بی آئی (EOBI) اور ورکرز ویلفیئر فنڈ (WWF) کی صوبوں کو منتقلی کے حوالے سے  انتظامی، مالی اور قانونی معاملات کا جائزہ لینے کے لئے وزیرِ بین الصوبائی رابطہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم، کمیٹی آئندہ ایک ماہ میں اپنی سفارشات مشترکہ مفادات کونسل کو پیش کرے گی۔
٭ پٹرولیم پالیسی 2012میں حکومت سندھ کی تجویز کردہ ترامیم کو اقتصادی رابطہ کمیٹی کو سپرد کرنے کا فیصلہ، ای سی سی اپنے آئندہ اجلاس میں کہ جس میں صوبوں کے نمائندگان بھی شریک ہوں گے ان تجاویز و مجوزہ ترامیم کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات مرتب کرے گی۔

٭ ملک میں یکساں معیار اور اسٹینڈرڈز کو یقینی بنانے اور اس ضمن میں متعلقہ کمپنیوں کو ون ونڈو سہولت فراہم کرنے کی ذمہ داری پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کو  تفویض کرنے پر وفاق اور صوبوں میں اتفاق، اس سلسلے میں قانونی اور آئینی معاملات کا جائزہ لینے کے لئے کمیٹی قائم، کمیٹی میں تمام صوبائی حکومتوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی نمائندگی شامل ہو گی۔ 
٭  ملک میں قائم ریگولیٹری اتھارٹیز کی موثر عمل داری اور صوبوں میں حکومتی رٹ کو یکساں طور پر لاگو کرنے کے سلسلے میں قابلِ عمل تجاویز مرتب کرنے کے لئے ٹاسک فورس تشکیل۔
٭ اجلاس میں ملک میں قومی سطح پرصفائی مہم شروع کرنے کا بھی فیصلہ، 
٭ وزیرِ اعظم عمران خان 07 اکتوبر سے قومی صفائی مہم (Pakistan Cleanliness Movement) کا باقاعدہ آغاز کریں گے۔
٭ صوبائی حکومتوں کی جانب سے قومی صفائی مہم میں بھرپور حصہ لینے کی یقین دہانی 
٭ وزیرِ اعظم کی  جانب سے صوبائی وزراء اعلی کو وفاقی حکومت کی جانب سے  تمام معاملات میں ہر ممکنہ تعاون  فراہم کرنے کی  یقین دہانی
٭ وفاقی حکومت مشترکہ مفادات کونسل کو موثر پلیٹ فارم بنانے کیلئے پرعزم ہے تاکہ یہ کونسل صوبوں اور وفاق کے درمیان معاملات کے حل میں موثر کردار ادا کر تے ہوئے فیڈریشن کی مضبوطی کا باعث بنے: وزیرِ اعظم