وزیرِ اعظم عمران خان کی زیرِ صدراکنامک ایڈوائزی کونسل کا وزیرِ اعظم آفس میں اجلاس

September 06, 2018

٭ وزیرِ اعظم عمران خان کی زیرِ صدراکنامک ایڈوائزی کونسل کا وزیرِ اعظم آفس میں اجلاس
٭ اجلاس میں وزیرِ خزانہ اسد عمر، وزیرِ برائے منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار، وزیرِ اعظم کے مشیر عبدالرزاق داؤد، ڈاکٹر عشرت حسین، گورنر سٹیٹ بنک، سیکرٹری خزانہ، ڈاکٹر فرخ اقبال، ڈاکٹر اشفاق حسن خان، ڈاکٹر اعجاز نبی، ڈاکٹر عابد قیوم سلہری، ڈاکٹر اسد زمان، ڈاکٹر نوید حامد، سید سلیم رضا اور ثاقب شیرانی شریک۔
٭ وزیرِ اعظم نے ممتاز ماہرین ِ معیشت کی اکنامک ایڈوائزی کونسل میں شمولیت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ممتاز شخصیات کے تجربات اور سفارشات سے ملکی معیشت کو درپیش مسائل پر قابو پانے، حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے اور نئی سوچ کو عملی جامہ پہنانے میں خاطرخواہ مددملے گی۔
٭ وزیرِ اعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے ماضی میں تشکیل دی جانے والی معاشی پالیسیوں میں نچلے اور متوسط  طبقات کی سماجی و معاشی ترقی  اور انکی ضروریات کو یکسر نظر انداز کیا جاتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا محور نچلے اور متوسط طبقے کی ترقی  ہے۔ 
٭ وزیرِ اعظم نے ریاست مدینہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں پہلی دفعہ ریاست نے نچلے اور کمزور طبقوں کی ذمہ داری اٹھائی۔  ریاست کے اس تاریخی اقدام سے نہ صرف محروم و کمزور طبقات اپنے پاؤں پر کھڑے ہوئے بلکہ وہ دنیا میں ایک عظیم طاقت بن کر ابھرے۔ انہوں نے کہا ملک اس وقت ترقی کرے گا جب ہماری پالیسیوں کا محور نچلے طبقے کو اوپر لانا اور انکو ترقی کے لئے یکساں موقع فراہم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک و قوم کی ترقی کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا جب تک کہ معاشرے کے ہر فرد کو معاشی نظام اور ترقی کے عمل میں شراکت دار نہیں بنایا جائے گا۔
٭ اجلاس میں شرکاء نے ملک کو درپیش معاشی مسائل کے حل کے سلسلے میں مختلف تجاویز پیش کیں۔