وزیر اعظم سے ایم کیو ایم پاکستان کے وفد نے ملاقات کی

October 18, 2017


 

اسلام آباد، 18اکتوبر2017:
 
وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی سے آج ڈاکٹر محمد فاروق ستار کی قیادت میں ایم کیو ایم پاکستان کے وفد نے  وزیرِ اعظم آفس میں ملاقات کی۔ وفد میں عامر خان، کنور نوید، وسیم اختر اور کامران ٹیسوری شامل تھے۔ وزیرِ داخلہ احسن اقبال، وزیرِ ریلوے خواجہ سعد رفیق، گورنر سندھ محمد زبیر، سینٹر سلیم ضیاء، مفتاح اسمعیل،  اور صدر مسلم لیگ ن کراچی ڈویژن منور رضا بھی ملاقات میں موجود تھے۔
 
اجلاس میں کراچی اور حیدرآباد کے حوالے سے وزیرِ اعظم ترقیاتی پیکج کا جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ فنڈز کا اجراء ماہ رواں میں یقینی بنایا جائے گا اور منصوبوں پر فی الفور کام شروع کیا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزیرِ اعظم نومبر میں حیدر آباد یونیورسٹی کا سنگِ بنیاد بھی رکھیں گے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے وفد نے کے ایم سی کے حوالے سے حکومتِ سندھ کے عدم تعاون کی شکایت کی جس کی وجہ سے کراچی میونسپل کارپوریشن کی کارکردگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور اہلِ کراچی کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔وزیرِ اعظم پاکستان نے کہا کہ حکومت ملک میں ہر سطح کے منتخب جمہوری اداروں کا احترام کرتی ہے۔ بلدیاتی اداروں کا ملک کی ترقی میں اہم کردار ہے۔ جس کے لئے صوبائی حکومت کی توجہ مبذول کرائی جائے گی کیونکہ شراکتی جمہوریت ہی جمہوری استحکام کی ضمانت ہے۔
اجلاس میں کراچی کے امن کو ہر قیمت پر یقینی بنائے رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت نے کراچی کی ترقی کے لئے ریکارڈ پیکج منظور کیا ہے اور سابق وزیرِ اعظم محمد نواز شریف کے تمام وعدے پورے کیے جائیں گے۔ کراچی پاکستان کا اقتصادی دارالخلافہ ہے جس کوامن اور خوشحالی کا گہوارہ بنانا ہمارا مشترکہ ہدف ہے۔ 
اجلاس نے اتفاق کیا کہ پاکستان میں جمہوریت کی مضبوطی کے لئے تمام جمہوری قوتوں کو اپنے اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور استحکام  کے لئے آئین کی بالا دستی اور جمہوری عمل کا تسلسل لازمی ہے۔ ملک کے تمام مسائل کا حل آئین، قانون اور پارلیمنٹ کی بالادستی میں مضمر ہے اور اس ضمن میں پارلیمان کی آئینی معیاد کا احترام ضروری ہے۔ 
وزیرِ اعظم نے وزیرِ داخلہ کو ہدایت کی کہ مقدمات کے حوالے سے ایم کیو ایم پاکستان کی شکایات کا جائزہ لیا جائے اور انصاف کے تقاضے یقینی بنائے جائیں۔