Transcript of Prime Minister's Media Talk on 15th June, 2017

June 15, 2017

وزیراعظم پاکستان

 محمد نواز شریف

کی میڈیا سے گفتگو



15th June, 2017


بسم اللہ الرحمن الرحیم

خواتین وحضرات!

السلام وعلیکم!


٭ میں ابھی ابھی جے آئی ٹی کے سامنے اپناموقف پیش کر کے آیا ہوں۔ میرے تمام اثاثوں اور وسائل کی ساری دستاویزات پہلے ہی تمام متعلقہ اداروں بشمول  سپریم کورٹ کے پاس موجود ہیں۔ آج میں نے ایک بار پھر یہ ساری دستاویزات جے آئی ٹی کو دے دی ہیں۔

٭ میں سمجھتا ہوںکہ آئین اور قانون کی سربلندی کے حوالے سے آج کا دن سنگ میل کا درجہ رکھتا ہے۔ میں نے ، میری حکومت نے اور میرے سارے خاندان نے اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کر دیا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ تقریباً سو ا سال پہلے میں نے پانامہ لیکس کا معاملہ سامنے آتے ہی سپریم کورٹ کے جج صاحبان پر مشتمل کمیشن قائم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ اگر اس وقت میری پیشکش کو سیاسی تماشوں اور سازشوں کی نذر نہ کر دیا جاتا تو یہ معاملہ اب تک حل ہو چکا ہوتا۔

٭ میںنے تو، اللہ کے فضل و کرم سے، ایک ایک پائی کا حساب دے دیا ہے۔ اور میرے احتساب کا سلسلہ میری پیدائش سے بھی پہلے 1936 ءسے شروع ہوا ہے اور میری آئندہ نسلوں تک پھیلا ہوا ہے۔ہے کوئی ایسا خاندان اس ملک میں جس کی تین نسلوں کا ایسا بے رحمانہ احتساب ہوا ہو؟۔

٭ میرا احتساب ہمارے سیاسی مخالفین پیپلز پارٹی کے ہر دور میں بھی ہوا۔ 1972سے شروع ہوا جب ہمارے سارے اثاثے قومیائیے گئے ۔جب میں کالج سے ، یونیورسٹی سے نیا نیا باہر آیا ۔ اُن کے انتقام کی ایک لمبی کہانی ہے اور آپ اس سے واقف ہیں۔ 

٭ ہمارا احتساب مشرف کی آمریت نے بھی کیا۔ اور اِس بے دردی سے کیا کہ ہمارے گھروں تک پر قبضہ جما لیا گیا۔ اگر بار بار لگنے والے ان الزامات میں ذرا برابر بھی سچائی ہوتی تو مشرف کو مجھے سزا دلوانے کے لیے  ہائی جیکنگ کے ایک جھوٹے کیس کا سہارا نہ لینا پڑتا۔

٭ اور آج ہماری حکومت ہے۔ پاکستان کے عوام نے تیسری بار مجھے وزارتِ عظمٰی کے منصب پر بٹھایا ہے اور آج ہم نے خود اپنی حکومت میں اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کر دیاہے۔

٭ نہ کبھی پہلے ہمارے دامن پر کسی ذرا برابرکرپشن کا داغ پایا گیا اور انشاءاللہ نہ اب ایسا ہوگا۔

٭ ہمارے مخالفین جتنے جی چاہئیں الزامات لگا لیں ، جتنے جی چاہئیں جتن کرلیں ، جتنی جی چاہئیں سازشیں کر لیں، وہ انشاءاللہ ناکام اور نامراد رہیں گے۔

٭ میں پنجاب کا وزیراعلیٰ رہا ۔ تیسری بار وزیراعظم بنا ہوں ۔ اربوں کھربوں کے منصوبے میری منظوری سے ہوئے ہیں۔ صرف میرے موجودہ دورمیں پاکستان میں اتنی الحمدللہ سرمایہ کاری ہوئی جتنی گذشتہ 65سالوں میں نہیں ہوئی۔ لیکن میرے مخالفین تمام تر کوششوں کے باوجود مجھ پر کسی کرپشن، کسی بدعنوانی ، کسی کک بیک ، کسی کمیشن کا کوئی ایک معاملہ الزام کی حد تک بھی سامنے نہیں لا سکے۔

٭ پاکستان کے عوام پر یہ بات واضح ہونی چاہئیے کہ جو کچھ ہو رہا ہے، اِس کا سرکاری خزانے کی خرد برد یا کرپشن کے کسی الزام سے کوئی تعلق نہیں۔یہ ذرا نوٹ کریںآپ ۔یہ ہمارے خاندان کے نجی اور ذاتی کاروباری معاملات کو ہی الجھایا اور اچھالا جارہاہے۔ یہ نوٹ کرنے والی بات ہے پوری قوم کے لیے۔

٭ چند دن میں جے آئی ٹی کی رپورٹ بھی سامنے آ جائے گی۔ عدالت کا فیصلہ بھی آجائے گا ۔ لیکن ہم سب کو یاد رکھنا چاہیے کہ ایک بڑی جے آئی ٹی بھی بیٹھنے والی ہے ۔ ایک بڑی عدالت بھی لگنے والی ہے۔

٭ 20کروڑ عوام کی جے آئی ٹی۔

٭ 20کروڑ عوام کی عدالت۔

٭  ہم سب کو اس جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونا ہے۔ 

٭ اِن سب کو چھوڑیئے ، ایک عدالت خدائے بزرگ و برتر کی بھی ہے جو ظاہر کو بھی جانتا ہے اور باطن کو بھی اور جو کسی جے آئی ٹی کا محتاج نہیں۔ مجھے ہر لمحے اُس عدالت میں حاضری کا فکررہتا ہے ۔ 

٭ یہ ملک سازشوں اور تماشوں کی بہت بھاری قیمت ادا کر چکا ہے ۔ وقت آگیا ہے کہ حق اور سچ کا عَلم حقیقی معنوں میں بلند ہو۔ 

٭  میں آج یہاں پیش ہوا ہوں صرف اس لیے کہ وزیراعظم  سمیت ہم سب آئین اور قانون کے سامنے جوابدہ ہیں۔ 

٭ آئین ، عوام کی حکمرانی کا نام ہے۔جمہوریت عوام کے فیصلوں کے احترام کا نام ہے۔عوام کے فیصلوں کو روند کر، مخصوص ایجنڈے چلانے والی فیکٹریاں اگربند نہ ہوئیں تو آئین اور جمہوریت ہی نہیں ، ملک کی سلامتی بھی خدانخواستہ خطرے میں پڑ جائے گی۔

٭ میںاورمیرا پورا خاندان انشاءاللہ اس جے آئی ٹی اور اس عدالت سے بھی سرخرو ہوں گے اور اگلے برس بیٹھنے والی جے آئی ٹی اور عوامی عدالت بھی 2013 ء سے کہیں زیادہ جوش و جذبے کے ساتھ ہمارے حق میں فیصلہ دے گی۔ 

٭ میں واضح کر دوں کہ اب ہم تاریخ کا پہیہ پیچھے کی طرف نہیں موڑنے دیںگے۔ وہ زمانے گئے جب سب کچھ پردوں کے پیچھے چھپا رہتا تھا۔ اب کٹھ پتلیوں کے کھیل نہیں کھیلے جا سکتے۔ میں اور بھی بہت کچھ کہنا چاہتا ہوں جو انشاءاللہ آنے والے دنوں میں آپ سے بھی اور قوم سے بھی کہوں گا ۔آپ کے ذہنوںمیں کئی سوال ہوں گے۔ اورمیرے پاس بھی کہنے کو بہت کچھ ہے۔ لیکن اب اِسے کسی اور موقع کیلئے اٹھا رکھتے ہیں۔ 

آپ سب کا بہت بہت شکریہ

٭٭٭