joint session speech 05/10/2016

October 05, 2016

جناب سپیکر!
شکریہ کہ آپ نے مجھے اپنی گذارشات پیش کرنے کا موقع دیا۔

جیسا کہ تمام معزز ارکان کے علم میں ہے، پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اِس مشترکہ اجلاس کا فیصلہ مقبوضہ کشمیر کی صورت حال اور بھارت کے جارحانہ اقدامات کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ یہ حقیقت اب پوری دنیا پر واضح ہو چکی ہے کہ سات لاکھ بھارتی فوج کے مظالم کے باوجود مقبوضہ کشمیر کے عوام کے جذبہ حریت کو کچلا نہیں جا سکا۔
ظلم کے ہر وار کے ساتھ بھارتی تسلط سے آزادی کا عزم پُختہ ہو رہا ہے۔ سات دہائیوں سے کشمیریوں کو غلام بنائے رکھنے کے تمام تر حربوں کے باوجود اپنے حقوق کے لیے سر دھڑ کی بازی لگانے والے سرفروشوں کا قافلہ اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ آزادی کے کارواں کی باگیں اب کشمیریوں کی تیسری نسل نے سنبھال لی ہیں۔ برہان وانی کی شہادت کشمیریوں کی تحریک کو ایک فیصلہ کن موڑ تک لے آئی ہے۔ معصوم لوگوں کے سینے چھلنی کرنے، اُن کے چہرے مسخ کرنے اور اُنہیں اندھا کرنے سے اس تحریک کا راستہ نہیں روکا جا سکتا ہے۔ یہ حقیقت دیوار پر لکھی نظر آ رہی ہے کہ بھارت کشمیریوں کو اُس حق سے محروم نہیں رکھ سکتا جس کا وعدہ اُس نے ساری دنیا سے کر رکھا ہے اور جس کی ضمانت پوری عالمی برادری نے دے رکھی ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں آج بھی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہیں۔ کشمیریوں کے لہو نے اُن قراردادوں کو پھر سے تازہ کر دیا ہے۔ عالمی برادری کو سوچنا ہو گاکہ سات دہائیوں تک ان قراردادوں کو نظر انداز کرنے کے کیا نتائج نکلے ہیں؟ کشمیر مسلسل آتش فشاں کی طرح سلگ رہا ہے۔ امن و سلامتی کی دعویدار عالمی قوتوں پر لازم ہے کہ وہ ان قراردادوں کو عملی جامہ پہنانے کابلا تاخیر اہتمام کریں تاکہ اقوام متحدہ عالمی امن کے محافظ ادارے کے طور پر اپنی ساکھ برقرار رکھ سکے۔
جناب سپیکر!
اہلِ کشمیر کے ساتھ پاکستان کے تاریخی ، جغرافیائی، مذہبی، تہذیبی، ثقافتی اور معاشی رشتوں کی تاریخ بہت پُرانی ہے ۔ پاکستان نے اُن کے حقِ استصواب رائے کے لیے ہر ممکن اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کا عہد کر رکھاہے۔ ہم نے ماضی میں بھی اپنا یہ عہد نبھایا، آج بھی اُس عہد کی پاسداری کر رہے ہیں اور آئندہ بھی اپنا یہ عہد نبھائیں گے۔ ہمارے لیے یہ محض مظلوم کشمیریوں کی حمایت ہی کا نہیں، انسانی حقوق کی سنگین پامالی، عالمی اداروں کی توہین اور امن عالم کو درپیش خطرات کا معاملہ بھی ہے۔ اگر اقوام متحدہ کے فیصلوں کو پاؤں تلے روندنے ، عالمی رائے عامہ کو ٹھکرانے اور طاقت کے زور پر انسانوں کو غلام بنانے کی روایت چل نکلی تو اپنے آپ کو مہذب کہلانے والی دنیا ہزاروں سال پیچھے چلی جائے گی اور تہذیب کا سارا سفر برباد ہو کر رہ جائے گا۔

جناب سپیکر!
کشمیر کے بہادر فرزند، برہان مظفر وانی کے خون سے روشن ہونے والی شمع آزادی نے بھارت کو ایک بار پھر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ طاقت کے بجائے اس معاملے کو دنیا سے کئے گئے وعدوں کے حوالے سے دیکھے۔ بھارت کے راہنما کئی سالوں تک دنیا کو یقین دلاتے رہے کہ وہ ہر حال میں قراردادوں پر عمل کریں گے اور کشمیریوں کو اپنی رائے کے اظہار کا موقع دیں گے۔ اب اس عہد کو بُھلا دیا گیا ہے۔ کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دے کر اقوام متحدہ ہی نہیں پوری عالمی برادری کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ ہم نے ہر ممکن کوشش کی کہ بھارت مذاکرات کی میز پر آئے۔ بار بار بات چیت کی خواہش کا اظہار کیا۔ لیکن بھارت کے منفی روّیے نے ہماری ان کوششوں کو آگے نہیں بڑھنے دیا۔ بار بار بات چیت کا سلسلہ ٹوٹتا رہا۔ بار بار مذاکرات کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی جاتی رہیں اور بار بار پُر امن حل کی حوصلہ شکنی کی جاتی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ آج نہ صرف جنوبی ایشیاء کا امن خطرے سے دوچار ہے بلکہ دنیا بھی اس معاملے کی تپش محسوس کرنے لگی ہے۔ 

جناب سپیکر!
میری حکومت نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے موثر کوششوں کو ہمیشہ اپنی اہم ترجیح رکھا ۔ موجودہ دورِ حکومت میں ا قوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے تین بار خطاب کے دوران میں نے مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف خصوصی توجہ دلائی۔ 21ستمبر کو اپنی حالیہ تقریر کے دوران، میں نے کہا کہ
’’ مسلسل کشیدگی اور تصادم کی فضا جنوبی ایشیاء کا مقدر نہیں بننی چاہیے۔ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا، پاکستان اور بھارت کے درمیان نہ پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے نہ تعلقات معمول پر آ سکتے ہیں ‘‘
میں نے عالمی برادری کو بتایا کہ ___’’ کشمیریوں کی ایک نئی نسل بھارتی تسلط سے نجات کے لیے اُٹھ کھڑی ہو ئی ہے۔ برہان وانی کشمیری انتفادہ کی علامت بن کر اُبھرا ہے۔___‘‘ میں نے کہا کہ 
’’آزادی کی مقبول اور پُرامن تحریک کے پاس اپنے مقصد پرکامل ایمان اور اپنے موقف کی صداقت کا اسلحہ ہے۔ اُن کے دِلوں میں آزادی کی تڑپ ہے۔ اس تحریک کو بھارتی فوجوں کی ظالمانہ کاروائیوں سے نہیں روکا جا سکتا۔‘‘
جناب سپیکر!
میں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے تقریر کے دوران چار مطالبات کئے۔
(1) مقبوضہ کشمیر میں نہتے شہریوں پر بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کا اہتمام کیا جائے۔
(2) بھارتی جیلوں سے کشمیری سیاسی قیدیوں کی رہائی، کرفیو کے خاتمے، زخمیوں کی طبی امداد، اپنے حقوق کے لیے آواز اُٹھانے کی آزادی اور کشمیری راہنماؤں پر عائد بیرونی سفر کی پابندیاں اُٹھانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
(3) سلامتی کونسل نے اپنی قراردادوں کے ذریعے کشمیریوں سے آزادنہ استصواب رائے کا وعدہ کر رکھا ہے ۔ کشمیری 70 سال سے یہ وعدہ پورا ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ 
جنرل اسمبلی یہ وعدہ وفا کرنے میں اپنا کردارادا کرے۔ اور 
(4) یہ کہ جموں و کشمیر سے بھارتی مسلح افواج کے انخلاء کے لیے اقدامات کیے جائیں اور استصواب رائے کے لیے ضروری مشاورت کا عمل شروع کیا جائے۔
جناب سپیکر!
گذشتہ تین ماہ کے دوران حکومت نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے نہایت اہم اور موثر اقدامات کیے ہیں۔ میں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے رابطہ کر کے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کی طرف توجہ دلائی۔ سیکرٹری جنرل نے انسانی جانوں کے ضیاع کی مذمت کی اور کشمیر سمیت تمام معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔ دفتر خارجہ نے سلامتی کونسل کے مستقل رُکن ممالک کے سفیروں کو خصوصی بریفنگ دی۔ بیرونِ ملک تمام پاکستانی سفیروں کو میزبان حکومتوں سے فوری رابطے کے لیے ہدایات جاری کی گئیں۔ کشمیری عوام سے یکجہتی کے لیے حکومت کی اپیل پر پوری پاکستانی قوم نے 20جولائی کو یومِ سیاہ منایا۔ دفتر خارجہ نے یورپی یونین کے سفیر اور او۔آئی۔سی کے رابطہ گروپ کے ارکان کو خصوصی بریفنگ دی۔ ایسی ہی بریفنگز افریقی یونین اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کو بھی دی گئیں۔انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو خطوط لکھے گئے۔ 
میں نے خود اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ، انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے کمیشن کے سربراہ کو خطوط کے ذریعے کشمیریوں پر مظالم کی طرف توجہ دلائی۔ میں نے سلامتی کونسل کے مستقل رُکن ممالک 
(چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکہ) کے سربراہانِ حکومت و ریاست کو بھی خطوط لکھے اور اُن کی توجہ کشمیرکی صورت حال کی طرف دلائی۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران میں نے متعدد عالمی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں اور اُنہیں مسئلہ کشمیر کے پسِ منظر اور موجودہ حالت سے آگاہ کیا۔

جناب سپیکر!
حکومت معاملے کی نوعیت اور سنگینی سے پوری طرح آگاہ ہے اور سفارتی محاذ پر پوری سرگرمی کے ساتھ کا م کر رہی ہے ۔ لیکن بھارت نے کشمیر میں اپنے مظالم سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر الزام تراشی کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ اُڑی کا واقعہ عین اُس وقت پیش آیا جب میں جنرل اسمبلی سے خطاب کے لیے نیویارک پہنچ چکا تھا۔ معاملے کی تفصیلات سامنے آنے اور کسی بھی طرح کی ابتدائی تحقیق کے بغیر،چند گھنٹوں کے اندر اندر بھارت نے اس واقعے کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال دی۔ اس واقعے کی ٹائمنگ اور پھر فوری طور پر پاکستان کو اس کا ذمہ دارد قرار دینے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اصل عزائم کیا تھے۔ پاکستان نے کھلے دل سے کہا کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ بین الاقوامی تحقیقات کرائی جائے لیکن کسی ثبوت کے بغیر وہی راگ الاپا جاتا رہا۔ پھر عالمی اخلاقیات کو نظر انداز کرتے ہوئے دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ 28ستمبر کو بھارت نے جنگ بندی معاہدہ توڑتے ہوئے لائن آف کنٹرول سے شدید گولہ باری کی جس سے پاک فوج کے دو بہادر فرزند شہید ہوگئے ۔ اِس بلا جواز اشتعال انگیزی کا فوری طور پر موثر جواب دے دیا گیا۔ اِس کے ساتھ ہی عالمی برادری کی طرف سے رابطے ہوئے۔ ہم نے دو ٹوک اور غیر مبہم الفاظ میں واضح کر دیا کہ پاکستان امن چاہتا ہے۔ 
اس کے کوئی جارحانہ عزائم نہیں لیکن قومی سلامتی اور ملکی دفاع کے خلاف کسی بھی کاروائی کا سخت جواب دیا جائے گا۔ ہماری بہادرمسلح افواج پیشہ ورانہ مہارت اور شجاعت و بہادری کی تابندہ روایات کے ساتھ ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ پوری قوم سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد ہے۔ یہ ایوان اُس عوامی اتحاد و یکجہتی کی علامت ہے جس میں دفاع وطن کے حوالے سے تقسیم کی کوئی لکیر نہیں۔ کوئی حزبِ اختلاف ہے نہ حزبِ اقتدار۔ پاکستان کے دفاع کے لیے ہم صرف اور صرف پاکستانی ہیں۔

جناب سپیکر!
میں آج اس ایوان میں ایک بار پھر پاکستان کا یہ پختہ موقف دہرانا چاہتا ہوں کہ ہم جنگ کے خلاف ہیں۔ ہم خطے میں پائیدار امن چاہتے ہیں۔ ہم کشمیر سمیت تمام مسائل سنجیدہ، بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اِس سوچی سمجھی راہ پر ثابت قدمی سے چلتے رہیں گے __لیکن امن کی اِس خواہش کو ایک پُر وقار، باعزت اور خودار قوم کی خواہش سمجھا جائے۔ عزت ، وقار اور خوداری سے زندہ رہنے کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم کسی کی دھونس کو خاطر میں نہیں لائیں گے۔ ہم وطن کی عزت و حرمت کا قرض چکانے کے لیے ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں کریں گے۔ 
جناب سپیکر!
اگر اُن کی خواہش یہ ہے کہ غربت کے خاتمے میں ہمارا مقابلہ ہو۔ اگر ان کی خواہش یہ ہے کہ بے روزگاری کے خاتمے کے لیے ہمارا مقابلہ ہو۔ اگر اُن کی خواہش یہ ہے کہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں اور ترقی و خوش حالی میں ہمارا مقابلہ ہو ___ تو یہ کام آگ، بارُود اور خون کے کھیل کے ذریعے نہیں ہو سکتا۔ جن کھیتوں میں بارُود بویا جائے ان میں روزگار اور خوش حالی کے پھول نہیں کِھلا کرتے۔ جن زمینوں کو ٹینکوں اور توپوں سے روندا جائے وہاں عوامی فلاح و بہبود کے چمن نہیں لہلہایا کرتے۔

اگر آپ واقعی اِس خطیّ کے عوام کی زندگیوں میں انقلاب چاہتے ہیں تو اپنے قول اور فعل کا تضاد دور کیجیے۔ نہتے عوام کی آنکھیں تو چھروّں کا نشانہ بنائی جا سکتی ہیں، لیکن تاریخ اور پوری انسانیت کو اندھا نہیں کیا جا سکتا۔

جناب سپیکر!

پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ دھشت گردی کا نشانہ بننے والا ملک ہے۔ ہمارے عوام، ہماری مسلح افواج، ہماری سکیورٹی ایجنسیز، ہماری پولیس حتٰی کہ ہمارے معصوم بچوں کا لہو اس جنگ کی نذر ہوا ہے۔ 
ہم نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک پُر عزم جنگ کا آغاز کیا جو آج بھی جاری ہے۔ ہم ہر نوع کی دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ ہم پوری ثابت قدمی سے اپنا مشن جاری رکھیں گے۔ دُنیا ہماری کوششوں کو دیکھ رہی ہے اور جانتی ہے۔ ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے ہم اپنے کردار کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ ہم مستقل مزاجی کے ساتھ قومی تعمیر و ترقی کی راہ پر چل رہے ہیں اور چلتے رہیں گے۔ ہم حقیقی معنوں میں اپنے عوام کی زندگیوں میں مثبت انقلاب کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں۔ ہمارے دوست ہمارے ساتھ ہیں۔ اور میں یہ بھی واضح کر دوں کہ اللہ پر پختہ ایمان رکھنے والی قومیں کبھی تنہا نہیں کی جاسکتیں۔ 
جناب سپیکر!
دو دن قبل اس پارلیمنٹ کی نمائیندگی کرنے والی سیاسی جماعتوں کے معزز سربراہوں اور قائدین کا ایک اہم اجلاس ہوا۔ میں بے حد شکر گزار ہوں کہ میری دعوت قبول کرتے ہوئے تمام جماعتوں نے اس کانفرنس میں بھرپور شرکت کی۔ یہ قومی یکجہتی اور سیاسی قیادت کے اتحاد کا بے مثال مظاہرہ تھا۔ اِس اجلاس کا تاریخی اعلامیہ پریس میں آ چکا ہے۔ اِس اعلامیے کی روح یہ ہے کہ قومی سا لمیت اور ملکی دفاع کے لیے ہم ایک ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اس پارلیمنٹ کے ذریعے بھی ساری دنیا کو یہی پیغام ملے گا۔ 

اِس اجلاس کا مقصد یہی ہے کہ مسئلہ کشمیر اور بھارتی روّیے پر اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہوئے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے، حکومت کی راہنمائی کی جائے اور ایسی تجاویز سامنے لائی جائیں جنہیں قومی پالیسی میں سمویا جا سکے۔ مجھے یقین ہے کہ اے۔ پی۔سی کا جذبہ یہاں بھی موجود رہے گا اور ہم تعمیری سوچ کے ساتھ قومی لائحہ عمل مرتب کر سکیں گے۔
جناب سپیکر!
میں شکر گزار ہوں کہ میری معروضات کو توجہ سے سنا گیا۔ میں توقع رکھتا ہوں کہ موجودہ صورتِ حال میں یہ اجلاس حکومت کی راہنمائی میں نہایت اہم کردار ادا کرے گا۔
****