یوم پاکستان 23 مارچ 2017 ء کے لیے وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف کا پیغام

یوم پاکستان 23 مارچ 2017 ء کے لیے وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف کا پیغام

23 مارچ ہماری ملی تاریخ کا ایک ناقابل فراموش دن ہے۔جنوبی ایشیا کی مسلم ملت ایک مدت سے اپنی شناخت کے لیے کوشاں تھی لیکن اس کے سامنے کوئی متعین منزل نہیں تھی۔ اسی تاریخ کو ہمیں وہ یک سوئی میسر آئی جس کے نتیجے میں نہ صرف منزل کا تعین ہوا بلکہ قیام پاکستان کی صورت میں ہم نے وہ منزل حاصل بھی کی۔ 
علامہ اقبال کے خطبہ الٰہ آباد میں اگرچہ منزل کا تعین کر دیا گیا تھا لیکن اس پر قومی اجماع 233 مارچ کو منعقد ہوا۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر عزمِ صمیم ہو اور قوم کو ایک یکسو اور دیانت دار قیادت میسر ہو تو بظاہر ناممکن دکھائی دینے والا ہدف ممکن بن جاتا ہے۔ 
 پاکستان کا قیام جہاں جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی ضمانت تھا، وہاں ان لوگوں کے لیے امید کی کرن تھا جنہیں متحدہ ہندوستان میں ترقی کے مساوی مواقع سے محروم رکھا گیا اور ان کے تہذیبی تشخص کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ پاکستان کی صورت میں ایک قوم نے اپنی اُس پہچان کو حاصل کیا جو اکثریت کے ہاتھوں معرض خطر میں تھی۔ 23 مارچ کی قراردادِ پاکستان میں یہ مضمرتھا کہ یہ نئی مملکت اپنے قیام کے بعد ایک ایسی قومی ریاست میں ڈھل جاتی جس میں تمام شہریوں کو مساوی مواقع میسر ہوں۔
 آج اA010; کا شکر ہے کہ پاکستان کے عوام کو ایک بار پھر اپنی کھوئی ہوئی منزل کا سراغ مل گیا ہے۔ گزشتہ تین سال میں جہاں پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے حکومت ، فوج ، سلامتی کے اداروں اور عوام نے قربانی دی، وہاں اقتصادی خوش حالی اور ترقی کے لیے حکومت نے پوری یک سوئی کے ساتھ پیش رفت کی۔ آج کا پاکستان اA010; کے فضل وکرم سے جمہوری ہے۔ اس میں عدلیہ آزاد ہے، میڈیا آزاد ہے۔ ملک کے پسماندہ علاقوں کو ترجیحی بنیادوں پر ترقی دی جارہی ہے۔ CPEC جیسے تاریخ ساز منصوبوں پرکام جاری ہے جس سے بلوچستان میں تعمیر و ترقی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں انشاء اA010; بلوچستان ملک کے ترقی یافتہ علاقوں میں شامل ہوگا۔
یہ حسن اتفاق ہے کہ233 مارچ کو مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے ملت اسلامیہ کو اپنی منزل کا سراغ ملا اورآج مسلم لیگ ہی کی قیادت میں ہم نے اس منزل کو بازیافت کیا۔ آج بطور قوم ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ایک ایسا سماج تشکیل دیں جس میں رنگ و نسل یا مذہب و فرقے کی بنیاد پرکسی کے ساتھ امتیازی سلوک روا نہ رکھا جائے۔ ہم نے مل کر پاکستان کو ایسی قومی ریاست بنانا ہے جس میں تمام شہریوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں اور پاکستان کا ہر خطہ ترقی کرے۔ آج کے دن ہم نے تجدید عہد کرنا ہے۔ ہم نے ایک بار پھر قائد اعظم کے افکار کی روشنی میں پاکستان کو دور جدید کی ترقی یافتہ ریاست بنانا ہے۔ گزشتہ تین سالوں میں اس سفر میں تیزی آئی ہے۔انشاء اللہ یہ سفر اسی جذبے کے ساتھ جاری رہے گا۔ اA010; تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ پاکستان کو سلامت رکھے اور اسے مستقبل کی عظیم ترقی یافتہ مملکت بنائے۔(آمین)
پاکستان پائندہ باد
 ***