یومِ اقبال پر وزیراعظم کا پیغام

 
 
اقبال ہمارے قومی افق پر طلوع ہونے والا وہ روشن ستارہ ہے جس نے ایک ایسے وقت میںہمیں راستہ دکھایا، جب غلامی کے اندھیروں میں ہم منزل کا سراغ کھو چکے تھے۔اقبال نے اپنی شاعری سے ہم میں وہ قوتِ عمل پیدا کی جس کے سہارے نہ صرف ہم نے مایوسی کو شکست دی بلکہ اپنی منزل تک بھی پہنچے۔یہ اقبال ہی تھے جنہوں نے جنوبی ا یشیا کے مسلمانوںکوقائد اعظم جیسی عظیم قیادت دی جنہوں نے ناممکن کو ممکن بنایا۔
پاکستان علامہ اقبال کا فیضان ہے۔انہوں نے نہ صرف پاکستان کا خواب دیکھا بلکہ یہ بھی بتا یا کہ یہ خواب جب تعبیر آشنا ہوگا تو اسے کس فکری اور عملی مسائل کا سامنا ہوگا۔علامہ اقبال نے خطبہ الٰہ آباد میں جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کے محفوظ مستقبل کا نقشہ پیش کیا اور اپنے علمی خطبات میں ان فکری اورعملی مسائل کی نشاندہی کی جو ایک نئی مملکت کو درپیش ہو سکتے ہیں۔
یہ اُس دانائے راز کی نگاہ دوربین تھی کہ انہوں نے برسوں پہلے ان مسائل کی پیش گوئی کی،ہمیں آج بھی ان کا سامنا ہے۔فرقہ واریت، نظریاتی انتہا پسندی اور نئی اجتماعی اداروں کی تشکیل جیسے معاملات پر اقبال کاوژن ،آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔اقبال نے پارلیمنٹ کو دورِ جدید میں اجماع کا متبادل قرار دیا اور مسلمانوں کو یہ تلقین کی وہ کہ اجتماعی دانش کی بنیاد پر اداروں کی تشکیل کریں۔اقبال اس بات کے قائل تھے کہ ریاستی امور میں ایک عام آ دمی کی بصیرت سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔اس لیے ایک جمہوری ریاست کا قیام ہی دورِ حاضر میں فکرِ اقبال کا مطالبہ ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان کی تاریخ کا ایک بڑا دور ایسا رہا جب عام آ دمی کی بصیرت کی نفی کی گئی۔اسے معاملات میں شریک نہیں کیا گیا۔اس کا یہ نتیجہ نکلا کہ فکرِ اقبال کی روشنی میں وجود میں آنے والی مملکت دو لخت ہو گئی۔آج اقبال کی فکر سے وابستگی کا یہ تقاضا ہے کہ ہم پاکستان کو حقیقی معنوں میں جمہوری مملکت بنائیں جو اجتہاد کی اسلامی روایت کی رو شنی میں نئے مسائل کا حل تلاش کرے۔ہم اپنے سیاسی،سماجی اور معاشی اداروں کی تشکیلِ نو کریں۔علامہ اقبال نے قائد اعظم کے نام اپنے خط میں مسلمانوں کو درپیش معاشی مسائل کو اولیت دی تھی۔آج ضروری ہے کہ ہم فکرِ اقبال کی روشنی میں ان معاشی مسائل کو حل کریں اور پاکستان کو دورِ جدید کی اسلامی فلاحی ریاست بنائیں۔یہ حکومت اور عوام کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ فکرِ اقبال سے راہنمائی لیتے ہوئے،تعمیرِ ملت میں اپنا کردار اداکریں۔ 
اقبال کے نزدیک تقسیمِ ہند پُرامن بر صغیرکی ضمانت تھی۔پاکستان کا قیام اس لیے ایک نعمت ہے جو تہذیبی اورسیاسی تصادم سے بچنے کا راستہ دکھاتا ہے۔اگر جنوبی ایشیا کی سطح پر،ہم فکرِ اقبال سے راہنمائی حاصل کریں تو اسے علاقائی امن کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔  
٭٭٭