یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان شاہد خاقان عباسی کا پیغام

ستر سال قبل ہمیں جو آزادی ملی تھی وہ آزادی ہمارے آباؤ اجداد کی بے مثال جدو جہد کا ثمر تھی ۔لاکھوں مسلمانوں نے ہمارے اور ہمارے بچوں کے مستقبل کے لیے قربانیاں دی تھیں ۔ آج اُن کی قربانیوں کی وجہ سے ہم لوگ ایک پر امن اور باوقار ملک میں ترقی اور خوشحالی کے راستے پر چل رہے ہیں ۔ ہمارے آباؤ اجداد کی قربانیوں کا ہم پر اور ہماری آنے والی نسلوں پر قرض ہے ۔ ملک کو حقیقی معنوں میں ایک آزاد اور خود مختار ملک بناکر ہی ہم یہ قرض چکا سکتے ہیں ۔

ہمارا تعلق قبیلے ،برادری اور نسل کی بنیاد پرمختلف ہوسکتا ہے ۔ ہم مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھ سکتے ہیں ۔ ہمارے سیاسی نظریات مختلف ہوسکتے ہیں ۔ اقتصادی وژن الگ ہوسکتا ہے لیکن قومی مفاد کی بالا دستی اور ایک ناقابل تسخیر دفاع پوری قوم کا مشترکہ مقصد ہے جس کے لیے ہم سب مل کر جدو جہد کریں گے ۔پاکستان میں قائد اعظم نے جدید جمہوری ریاست کا ایک خواب دیکھا تھا ۔ اِس خواب کی تعبیر میں بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت تمام تر چیلنجز کے باوجود اِس کی تعبیر کو اپنا مشن بنائے ہوئے ہے ۔ جمہوری انداز میں ہونے والا حالیہ پر امن انتقالِ اقتدار

(Peaceful Democratic Transition)

پاکستان میں تیزی سے مضبوط ہوتی ہوئی جمہوری اقدار کی عملی مثال ہے ۔ ہمیں تمام اداروں کو مضبوط کرنا ہے تاکہ وہ آئین اور قانون کی حد میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرسکیں ۔ ایک مستحکم معیشت ہی ایک ناقابل تسخیر دفاع کی ضمانت دے سکتی ہے ۔ ایک معتدل معاشرہ ایک مستحکم ریاست کی بنیاد ہوتا ہے جہاں تمام شہریوں کو بنیادی انسانی حقوق میسر ہوتےہیں اور جہاں ریاست قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بناتی ہے ۔

پاکستان دُنیا بھر کے تمام ممالک خصوصاً اپنے ہمسایوں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر مثبت اور تعمیری تعلقات کی خواہش رکھتا ہے ۔

جنوبی ایشیاء کے عوام نے گذشتہ نصف صدی کے دوران تنازعات کی بڑی قیمت ادا کی ہے ۔جب تک خطے کے تمام ممالک ان تنازعات کوجڑ سے ختم کرنے کے لیے معقول حل تلاش نہیں کرلیتے اُس وقت تک خطے کے عوا م کو ترقی و خوشحالی کی منزل سے ہمکنار نہیں کیا جاسکتا ۔

ہماری حکومت نے بامقصد اور پر امن مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کے لیے ہمیشہ پیش رفت کی ہے لیکن بدقسمتی سے ہندوستان کے توسیع پسندانہ عزائم اس کی راہ میں رکاوٹ بنے ہیں ۔ اقوام عالم کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اِس خطے میں تمام تنازعات خصوصاً کشمیر کے مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے ذریعے نکالنے پر زور دیں اور پائیدار امن کی راہ ہموار کریں ۔

اکیسویں صدی میں دُنیا کا سب سے بڑا چیلنج دہشت گردی ہے ۔ پاکستان نے عالمی امن کے لیے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں ۔ ہماری مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام نے اِس سلسلے میں بے مثال قربانیوں اور عزم و ہمت کی لازوال داستانیں رقم کی ہیں ۔ اب وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری علاقائی مفاد ات سے بالا تر ہوکر نہ صرف اِن قربا نیوں کا اعتراف کرے بلکہ اِس جنگ کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پاکستان کی بھرپور مدد کرے ۔

پاکستان کی نوجوان نسل صلاحیتوں سے مالا مال ہے ۔ اُن میں آگے بڑھنے کا جذبہ موجود ہے ۔ آج دُنیا بھر میں پاکستان کے نوجوان انفارمیشن ٹیکنالوجی ، انجینئر نگ ، میڈیکل اور مینجمنٹ کے شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں ۔ میری حکومت کا وژن ہے کہ پاکستان میں ترقی او رخوشحالی کی رفتار کو اور تیز کیا جائے تاکہ سب پروفیشنلز پاکستان میں آکر قومی تعمیر وترقی کے لیے خدمات انجام دے سکیں ۔

میں پاکستان کی نوجوان نسل کو یقین دلاتا ہوں کہ آنے والے کل کاپاکستان قانون کی حکمرانی اور میرٹ کی بالا دستی کے راہنما اُصولوں پر عملد رآمد کو یقینی بنائے گا ۔

پاکستان کے 70ویں یوم آزادی پر میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ ہم اِن مقاصد کو حاصل کرکے رہیں گے