یومِ تکبیر کے موقع پر وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد نواز شریف کا پیغام

 
 
28۔مئی پاکستان کی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش دن ہے۔اُس دن ملک کا دفاع ناقابلِ تسخیر بنا دیاگیا جب پاکستان ایک ایٹمی قوت کے تعارف کے ساتھ دنیاکے نقشے پر نمودار ہوا۔’یومِ تکبیر‘ جہاں پاکستانی قوم کے بے مثال جرات اور بہادری کی علامت ہے وہاں پاکستان کے دشمنوں اور بد خواہوں کے لیے بھی یہ پیغام ہے کہ پاکستان کے خلاف جارحیت کا مظاہرہ کرنے والوں کاانجام عبرت ناک ہوگا۔
آج سے انیس سال پہلے جب مسلم لیگ کی منتخب حکومت نے یہ فیصلہ کیا تو اسے طرح طرح کے چیلنجوں کا سامنا تھا۔ایک طرف اقتصادی پابندیوں کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں اور دوسری طرف اس اقدام کو ناقابلِ معافی جرم کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا۔مسلم لیگ کی قیادت نے اللہ تعالیٰ کے بھروسے اور عوام کی تائید کے بل بو تے پر ان چیلنجوں کو قبول کیا اور پاکستان کے وقار کاعلم سر بلند رکھا۔اس موقع پرقوم ان تمام شخصیات کی بھی شکر گزار ہے جنہوں نے مختلف مراحل پر جرات کا مظاہرہ کیا اور پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ 
یومِ تکبیر اس بات کاا علان ہے کہ قومیں استقلال اور وژن کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں۔قوموں کی قیادت اگر غیر سنجیدہ،بصیرت سے عاری اورقومی مفاد سے بے خبر ہو تو ان کا مستقبل خدشات میں گھر جاتا ہے۔اگر قیادت جرات مند،دور اندیش اوربہادر ہو تو اس کے نتیجے میں عوام میں اعتماد پیدا ہوتا ہے اوروہ زینہ بزینہ ترقی کی منازل طے کرتی جاتی ہے۔
ہم نے انیس سال پہلے پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر بنایا تھا،آج اسی جذبے اور وژن کے ساتھ پاکستان کی معیشت کو بھی مضبوط اور مستحکم بنایا جا رہا ہے۔آج کے دور میں کسی قوم کا دفاع اس کے معاشی استحکام سے جدا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور پاکستان کے عوام کی تائید کے ساتھ یہ سفر بھی تیزی کے ساتھ جاری ہے۔ایٹمی دھماکے کی طرح پاکستان اب معاشی دھماکہ بھی کرے گا۔ساری دنیا ان مثبت امکانات کا ذکر کررہی ہے جو ہمارے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔CPEC میں ترقیاتی منصوبوں کا ایک طویل سلسلہ ہے جس سے خوشحالی کے ایک شاندار دور کا آغاز ہوگا۔یہ بات خوش آئند ہے کہ جس طرح انیس سال پہلے قوم اپنے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے یک سو تھی،آج اسی جذبے کے ساتھ پاکستان کو معاشی اعتبار سے ایشین ٹائیگر بنانے کے لیے بھی یکسو ہے۔
پاکستان کے ایٹمی پروگرام نے جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن پیدا کیا۔اس طرح یہ امن کی علامت بن گیا۔اس سے خطے کے تمام چھوٹے ممالک نے سکھ کا سانس لیا۔پاکستان کا معاشی استحکام بھی علاقے میں خوش حالی کی علامت ہے۔ پاکستان اس ترقی کے سفر میں جنوبی ایشیاہی نہیں خطے کے دیگر ممالک کوبھی شریک کرنا چاہتا ہے تاکہ سب مل کر اس علاقے کے عوام کو خوش حال بنائیں۔انصاف اور معاشی ترقی کے یکساں مواقع ہی اس خطے میں امن کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ 
**************************